Star Welfare Organization Continues Its Mission of
Women’s Welfare Under Clause No. (2) of Its Constitution
A woman came to Star Welfare Organization and stated:
“My name is Razia, wife of Muhammad Javed Iqbal, Awan by caste, and I am a resident of House No. 53, Muhammadi Colony, Niazi Road, Karachi. I am approximately 60 years old and a widow. I have three sons and one daughter. Three of my children are married, while one of my sons is addicted to drugs.
My son sold the property of my late husband that was rightfully due to me and spent all the money on drugs. He brought me from Karachi to Sargodha and locked me inside a room. Somehow, I managed to escape and came to Star Welfare Organization. Therefore, I request that I be provided with shelter and protection.”
Star Welfare Organization is providing this woman with shelter and all necessary facilities completely free of cost.
There are many women like her at Star Welfare Organization who are in need of shelter, care, protection, food, clothing, medical assistance, and other essential services and are waiting for your generous donations.
Donation Accounts
Account Title: Star Welfare Organization
First Women Bank
IBAN: PK52FWOM0018023566510000
Account Title: Star Welfare Organization
HBL Microfinance Bank
IBAN: PK65FMFB0021011195601018
Account Title: Star Welfare Organization
MCB Bank, Fatima Jinnah Road Branch, Sargodha
IBAN: PK56MUCB0124201010018281
Star Welfare Organization
Contact: 0300-9607123
Website: www.starwelfare.org
Email: info@starwelfare.org
========================================
میرا نام رضیہ محمد جاوید اقبال قوم اعوان سکنہ مکان نمبر 53 گلی محمدی کالونی نیازی روڈ کراچی تحصیل و ضلع کراچی کی رہائشی ہوں، میری عمر تقریباً 60 سال ہے۔ ایک سال پہلے میرا شوہر انتقال کر گیا ہے۔ میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میرے بیٹوں میں تین شادی شدہ ہیں اور ایک نشہ کرتا ہے جو انتہائی ظالم اور سفاک ہے۔ میرے 3 ذاتی مکان کراچی، سرگودھا اور سندھ میں موجود ہیں۔ یہ مجھے پر انتہائی تشدد کرتا ہے، مجھے باہر دھرا رکھتا ہے۔ مجھے کئی دفعہ برے طریقے سے مارا اور گھر سے نکال دیا ہے، بلکہ میرے بڑے بیٹے کو بھی مارا اور گھر سے نکال دیا اور دوسرے بیٹے اور تیسرے بیٹے کو بھی نکال دیا، اسے پوچھا جائے میرے تیسرے بیٹے کو پیٹ میں اس نے مارا، میرا ہاتھ سب کو مار کر اس لیے گھر سے نکال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سارے مکان میرے ہیں۔ میں ان کو بیچ کر بیرون ملک چلا جاؤں گا۔ اس کے علاوہ میرے شوہر کے 6 سے 7 مکان بھی ہیں۔ میرا یہ ظالم بیٹا مجھے کراچی سے سرگودہا لے آیا اور ایک گھر میں 7 سے 8 ماہ تک مجھے قید رکھا۔ ایک دن اس گھر کے سامنے پڑوسیوں نے میرے حالات دیکھے تو باہر سے دروازے کھول کر مجھے باہر نکال دیا جس کے بعد میں تھانے پہنچ گئی اور وہاں سے آپ کے ادارے سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن کا پتہ چلا‘ اب مجھے یہاں پر شیلٹر فراہم کیا جائے۔ مجھے انصاف دلایا جائے، میرے ظالم بیٹے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، میں ایک بیوہ اور مظلوم عورت ہوں، ان کے ڈر سے میرے دوسرے بچے بھی مجھ سے رابطہ نہیں کرتے۔خدمت گار بابا محمد شفیق صدر سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن نے کہا کہ یہ خاتون مورخہ 8 اپریل 2025 کو داخل ہوئی ہے۔ ان کو یہاں پر خوراک، لباس، رہائش سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ہم نے ان کی درخواست لکھ لی ہے اور جلد از جلد متعلقہ پولیس کو اطلاع کر دی جائیگی۔۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جب اولاد اپنے ماں باپ کو گھر سے نکال دیتی ہے، عمر کے آخری پڑاؤ میں جہاں بزرگوں کو بچوں کی ضرورت ہوتی ہے، ان کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے تو وہی اولاد، جس کو پالنے والدین بڑے ہوئے اور پالا، چھوڑ دیتے ہیں۔ دورانِ دور کے دنوں کو چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے واقعات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن کا مقصد ہی ایسے لوگوں کی خدمت کرنا ہے، جن کو اپنوں نے ٹھکرا دیا ہے اور انہیں سڑکوں پر چھوڑ دیا ہے۔