My name is Aqsa. My biological
father's name is Qari Feroz, and my stepfather's name is Fazal Abbas. I live at
House No. 299, Street No. 6, Zafar Colony. I work at Mola Bakhsh Hospital.I
have been married five times, but none of them worked out. My first marriage
was to Akram Ranjha, which ended in divorce after only three months. My second
marriage was to Tariq, of the Nai community, and it lasted for one year before
ending in divorce. I had a baby girl from this marriage, but she passed away
two days after her birth.My third marriage was to Zain Malik, which lasted for
nine years. We had two children. One of our sons, named Abdul Fahad, passed
away nine months after he was born. Our other son is alive and is named Abdul
Wahid Sadiq Akbar. He lives with his paternal aunt and is in the 7th
grade.After this marriage failed, I married Fazal Abbas Mochi, and we were
divorced after three months. Following this divorce, I went back to my parents'
house. There, my mother, Shehzadan Bibi, along with my brothers Umar, Abu
Bakar, Usman, and Muhammad Ali, would mistreat me and force me to do wrong
things. They tied me to a cot and beat me multiple times. I would beg them to
stop, and they would only let me go when they felt like it.As I mentioned, I
worked at Mola Bakhsh Hospital and had saved a significant amount of money with
my mother. When I asked for my money, they treated me badly and handed me over
to the Urban Area Police, where I was declared mentally unstable. My statement
was taken there, and the police left me at the Hawa Shelter Home.The shelter
home arranged my marriage to Farooq, but we were divorced after three months.
After that, I returned to the shelter home, where I have been living for almost
two years now, and I feel safe here.
میرا نام اقصیٰ ہے۔ میرے حقیقی والد کا نام قاری فیروز ہے جبکہ میرے سوتیلے والد کا نام فضل عباس ہے۔ میں مکان نمبر 299، گلی نمبر 6، ظفر کالونی میں رہتی ہوں۔ میں مولا بخش ہسپتال میں کام کرتی ہوں۔ میری پانچ مرتبہ شادی ہوئی، لیکن میری کوئی بھی ازدواجی زندگی کامیاب نہ ہو سکی۔ میری پہلی شادی اکرم رانجھا سے ہوئی، جو صرف تین ماہ بعد طلاق پر ختم ہوگئی۔ میری دوسری شادی طارق نامی شخص سے ہوئی، جس کا تعلق نائی برادری سے تھا۔ یہ شادی ایک سال تک قائم رہی، جس کے بعد طلاق ہوگئی۔ اس شادی سے میری ایک بیٹی پیدا ہوئی، لیکن وہ پیدائش کے صرف دو دن بعد انتقال کر گئی۔ میری تیسری شادی زین ملک سے ہوئی، جو نو سال تک قائم رہی۔ اس شادی سے ہمارے دو بچے ہوئے۔ ہمارا ایک بیٹا، جس کا نام عبدالـفہد تھا، پیدائش کے نو ماہ بعد انتقال کر گیا۔ ہمارا دوسرا بیٹا زندہ ہے، جس کا نام عبدالواحد صادق اکبر ہے۔ وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ رہتا ہے اور ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔ اس شادی کے ناکام ہونے کے بعد میری شادی فضل عباس موچی سے ہوئی، لیکن یہ شادی بھی صرف تین ماہ بعد طلاق پر ختم ہوگئی۔ اس کے بعد میں اپنے والدین کے گھر واپس آگئی۔ وہاں میری والدہ شہزادن بی بی اور میرے بھائی عمر، ابوبکر، عثمان اور محمد علی میرے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے اور مجھے غلط کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ انہوں نے مجھے کئی مرتبہ چارپائی سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ میں ان سے التجا کرتی تھی کہ مجھے چھوڑ دیں، لیکن وہ اپنی مرضی کے مطابق ہی مجھے آزاد کرتے تھے۔ جیسا کہ میں نے بتایا، میں مولا بخش ہسپتال میں کام کرتی تھی اور میں نے اپنی والدہ کے پاس ایک خاصی رقم جمع کروا رکھی تھی۔ جب میں نے اپنی رقم واپس مانگی تو انہوں نے میرے ساتھ برا سلوک کیا اور مجھے اربن ایریا پولیس کے حوالے کر دیا، جہاں مجھے ذہنی طور پر غیر مستحکم قرار دیا گیا۔ وہاں میرا بیان بھی لیا گیا، جس کے بعد پولیس نے مجھے ہوا شیلٹر ہوم میں چھوڑ دیا۔ شیلٹر ہوم کی انتظامیہ نے میری شادی فاروق نامی شخص سے کروائی، لیکن یہ شادی بھی تین ماہ بعد طلاق پر ختم ہوگئی۔ اس کے بعد میں دوبارہ شیلٹر ہوم واپس آگئی، جہاں میں تقریباً دو سال سے مقیم ہوں۔ یہاں میں خود کو محفوظ اور پُرسکون محسوس کرتی ہوں۔