×
Wife and children kicked him out of the house


STAR WELFARE ORGANIZATION

Working under Clause No. (4) of its Constitution
Welfare of Patients, Medical Treatment & Appropriate Assistance

The Story of Mansoor Ahmed

My name is Mansoor Ahmed. I am a resident of the Urban Area, Sargodha, and I am 60 years old.

25 years ago, I went to Saudi Arabia to earn a living through hard work. When I returned, my wife and children refused to keep me with them. I had given everything I had to my wife and children. Now, I have no place to live.

Therefore, I requested that I be admitted to Star Welfare Organization.

Now, Mansoor Ahmed is being provided all facilities completely free of cost at Star Welfare Organization.

Free Facilities for Elderly Persons

  • Free Accommodation
  • Free Food
  • Free Medical Facilities
  • Free Clothing
  • Free Care & Attention

Your donations are urgently needed to support and care for elderly people like Mansoor Ahmed.

Donation Accounts

Account Title: Star Welfare Organization
First Women Bank
IBAN: PK52FWOM0018023566510000

Account Title: Star Welfare Organization
HBL Microfinance Bank
IBAN: PK65FMFB0021011195601018

Account Title: Star Welfare Organization
MCB Bank, Fatima Jinnah Road Branch, Sargodha
IBAN: PK56MUCB0124201010018281

Contact Us

Star Welfare Organization
Phone: 0300 9607123
Website: www.starwelfare.org
Email: info@starwelfare.org

=---------------------------------------------------------------------------------------

میری تعلیم میٹرک ہے‘ میں منصور احمد اربن ایریا سرگودہا کا رہائشی ہوں اور حکمت کاکام کرتا ہوں‘ میرے 2 بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے‘ میری عمر تقریباً 60 سال ہے‘ میرے بیٹے کی عمر تقریباً 21 سال ہے۔ آج سے تقریباً 20سے 25 سال قبل میں یو اے ای میں کام کرتا تھا تو میری بیوی میرے والدین سے جھگڑا کر کے بچوں سمیت اپنے میکے میں چلی گئی میں ایک سال کے بعد واپس آیا تو اسے منانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانی‘ اب میرے والدین بھی فوت ہو چکے ہیں اور بہن بھائی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں‘میرا رہنے کیلئے کوئی ٹھکانہ نہیں‘ میں اکیلا رہ گیا ہوں‘ کوئی بھی رشتے دار رکھنے کو تیار نہیں‘ میں نے اپنے بیوی بچوں سے بڑی بات کرنے کی کوشش کی‘ انہیں منانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مانتے‘ اب میں کہاں جاؤں۔ عمر کے اس پڑاؤ میں میں بے بس ہو گیا ہوں‘ اب مورخہ 12-3-2025کو میں آپ کے ادارہ سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن حواء شیلٹر ہوم (پناہ گاہ) میں آیا ہوں‘ مجھے یہاں رہنے کیلئے اجازت دی جائے  اور میری بیوی اور میرے بچوں سے میرا رابطہ اور صلح کروائی جائے۔ اس کے بعد صدر سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن پنجاب خدمت گا ر بابا محمد شفیق ڈوگر نے انہیں ویلکم کیا اور حواء شیلٹر ہوم (پناہ گاہ) اولڈ ایج ہوم میں پناہ دیدی۔خدمت گا ر بابا محمد شفیق ڈوگر نے کہا کہ آج ہم 2025ء کے دور میں آ چکے ہیں کہ اپنی ہی سگی اولاد اور اپنے ہی سگے بہن بھائی اپنوں کو نہیں رکھتے‘ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے‘ اپنی آخری زندگی کی تلاش میں مارے مارے کچھ سڑکوں پر‘ کچھ گھروں میں قید اور کچھ باہر گھوم رہے ہیں اور وہ اس تلاش میں ہیں کہ ہماری آخری زندگی ایسی جگہ پر گزرے جہاں پر کم از کم زہنی سکون ہو‘ خون کے رشتے ایسے بھی ہم نے دیکھے کہ وہ اپنوں کو عید کے موقع پر بھی نہیں ملنے آ تے‘ جب انسان 50 سے 60 سال کی عمر میں آتا ہے تو اپنے بھائی بھی اور اپنی سگی اولاد بھی نہیں رکھتے‘ بیٹے بیویوں کے ہاتھوں مجبور ہو جا تے ہیں اور بھائی بھی اپنی بیویوں کے ہاتھوں مجبور ہو جا تے ہیں اور کہتے ہیں کہ جاؤ اپنا بندوبست کر لیں‘ اسی طرح کی کہانی بھی انہی بزرگ کی ہے‘ جب تک ہاتھ پاؤں چلتے رہے تو اس وقت تک گلے لگا کر رکھا اور جب بے بس ہو گئے تو کنارہ اختیار کر لیا۔ یہ بزرگ اس وقت حواء شیلٹر ہوم میں

موجود ہیں اور عوام سے دعاؤں کی اپیل ہے۔


Cases Categories

Related Posts

×

Notice!!

we improving user experience so be patience