Iqra’s Story: From Domestic Violence to Safety and a New Beginning
My name is Iqra. I got married, and my husband took my rightful share of the inheritance from me. Trusting his words, I willingly gave him my share. I made every possible compromise to preserve my marriage and improve our circumstances. Despite my efforts, however, my husband subjected me to physical and emotional abuse.
My sister and brother-in-law had already warned me about my husband’s true nature. They explained that he would take my money and continue treating me badly despite having taken it. However, I ignored their advice, hoping that things would improve.
Despite sacrificing my inheritance for my husband and enduring his abuse, my husband divorced me and forced me out of the house. I was left helpless on the streets with my two-and-a-half-year-old daughter. I had no support and no safe place to go.
The Satellite Town Police saw me crying and distressed on the street. The police officers asked me about my family. I told them that my husband had abandoned me and that I had nowhere to go. I requested the police to take me to an orphanage. Considering my safety and well-being, the police officers brought me to Star Welfare Organization.
After arriving at the organization, I requested the staff to contact my sister, Rafia, who lives in Rawalpindi. I provided my sister’s phone number, hoping that she would come and take me to live with her. The organization contacted my sister, after which both my sister and brother-in-law spoke to me over the phone.
I pleaded with them to take me with them, but they explained that they could not travel to Sargodha. Instead, they sent my maternal aunt and her daughter to meet me at Star Welfare Organization.
During the meeting, in the presence of the President of Star Welfare Organization, Khidmatgar Baba Muhammad Shafiq Doger, and the General Secretary, Ms. Rifat Rani, I expressed my desire to go with my maternal aunt.
After a detailed discussion and careful consideration of my circumstances, the responsible representatives of Star Welfare Organization decided to place me in the care of my maternal aunt.
I am now living with my maternal aunt and trying to rebuild my life for myself and my daughter. I want to create a safe, peaceful, and better future for my child and regain my independence so that I can stand on my own feet once again.
====================================================
میرا نام اقرا ہے۔ میری شادی ہوئی، اور میرے شوہر نے میرے حقِ وراثت میں سے میرا حصہ مجھ سے لے لیا۔ میں نے ان کی باتوں پر بھروسا کرتے ہوئے اپنی مرضی سے اپنا حصہ انہیں دے دیا۔ میں نے اپنے ازدواجی رشتے کو برقرار رکھنے اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن سمجھوتہ کیا، لیکن اس کے باوجود میرے شوہر نے مجھے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا۔میری بہن اور بہنوئی نے مجھے پہلے ہی میرے شوہر کی اصل فطرت کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ انہوں نے مجھے سمجھایا تھا کہ وہ میرے پیسے لے لیں گے اور اس کے باوجود میرے ساتھ برا سلوک جاری رکھیں گے۔ لیکن میں نے ان کی نصیحت کو نظرانداز کیا اور یہ امید رکھی کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔اپنے شوہر کے لیے اپنی وراثت قربان کرنے اور اس کا تشدد برداشت کرنے کے باوجود، میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی اور گھر سے نکال دیا۔ میں اپنی ڈھائی سالہ بچی کے ساتھ بے یار و مددگار سڑکوں پر رہ گئی۔ میرے پاس نہ کوئی سہارا تھا اور نہ ہی جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ۔سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس نے مجھے سڑک پر پریشانی کے عالم میں روتے ہوئے دیکھا۔ پولیس اہلکاروں نے مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور میرے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ میں نے پولیس سے درخواست کی کہ مجھے کسی یتیم خانے میں پہنچا دیا جائے، پولیس اہلکاروں نے میری حفاظت اور فلاح و بہبود کے پیشِ نظر مجھے سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن میں پہنچا دیا۔یہاں پہنچنے کے بعد، میں نے عملے سے درخواست کی کہ میری بہن رافعہ، جو راولپنڈی میں رہتی ہیں، سے رابطہ کروایا جائے۔ میں نے اپنی بہن کا فون نمبر فراہم کیا، اس امید کے ساتھ کہ وہ مجھے اپنے پاس لے جانے کے لیے آ جائیں گی۔ ادارے نے میری بہن سے رابطہ کیا، جس کے بعد میری بہن اور بہنوئی دونوں نے مجھ سے فون پر بات کی۔ میں نے ان سے بہت التجا کی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں، لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ سرگودھا نہیں آ سکتے۔ اس کے بجائے، انہوں نے میری خالہ اور ان کی بیٹی کو مجھ سے ملنے کے لیے سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن بھیج دیا۔ملاقات کے دوران، سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر خدمت گار بابا محمد شفیق ڈوگر اورجنرل سیکرٹری محترمہ رفعت رانی کی موجودگی میں، میں نے اپنی خالہ کے ساتھ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میری صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو اور غور و خوض کے بعد ذمہ داران سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن نے مجھے میری خالہ کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا۔اب میں اپنی خالہ کے ساتھ ہوں اور اپنی بچی اور اپنی خاطر زندگی کو نئے سرے سے سنوارنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنے بچے کے لیے ایک محفوظ، پُرسکون اور بہتر مستقبل تعمیر کر سکوں اور اپنی زندگی کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا کر سکوں۔