Star Welfare Organization Continues Its Mission of Women’s Welfare Under Clause No. 2 of Its Constitution
Shelter Provided to Samina Mehnaz
Samina Mehnaz, daughter of Mumtaz, belonging to the Muslim Sheikh community and a resident of Sargodha, approached Star Welfare Organization and shared her distressing circumstances. She stated that she has one son and two daughters, all of whom are still young. She alleged that her husband subjects her to physical violence without any reason and constantly suspects her.
She earns a living by working in other people’s homes and struggles to provide food for herself, her husband, and their children. However, she has become exhausted by the repeated incidents of domestic violence. Therefore, she requested shelter and protection.
Following her request, Star Welfare Organization provided shelter to Samina Mehnaz.
Several women and girls facing circumstances similar to Samina’s are currently residing at the institution and need support and care.
If you wish to contribute towards their care and well-being, you can donate to the following bank accounts:
Donation Details
Account Title: Star Welfare Organization
Bank: First Women Bank Limited
Account Number / IBAN:
PK52FWOM0018023566510000
Account Title: Star Welfare Organization
Bank: HBL Microfinance Bank
Account Number / IBAN:
PK65FMFB0021011195601018
Account Title: Star Welfare Organization
Bank: MCB Bank, Fatima Jinnah Road Branch, Sargodha
Account Number / IBAN:
PK56MUCB0124201010018281
Star Welfare Organization
Contact: 0300 9607123
Website: www.starwelfare.org
Email: info@starwelfare.org
===========================================================
بیان: ثمینہ مہناز ولد ممتاز قوم مسلم شیخ کا شوہر اس پر شک کرتا اور مارتا پیٹتا ہے۔ ثمینہ کا کہنا ہے کہ میرے تین بچے ہیں سب سے بڑا بیٹا جنید اقبال عمر 7 سال، بیٹی زہرا عمر 6 سال بیٹی مومنہ عمر 5 سال ہے۔ جب سے میری شادی ہوئی اس وقت سے آج تک میں خود محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں، لوگوں کے گھروں میں کام کرنے کے با وجود بھی شوہر شک کرتا ہے اور شام کو جب میں کام سے آتی ہوں تو تشدد کرتا ہے۔ بچوں کی خاطر میں نے اپنا گھر آباد کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ بار بار بچوں کا خیال آتا تھا کہ ان کا مستقبل تباہ نہ ہو جائے۔ اس لیے میں نے پورا گھر آباد کرنے کی کوشش کی۔ میں اب اس شخص کیسا تھ نہیں رہنا چاہتی۔ اب مجھے اس نے مار کر گھر سے نکال دیا ہے۔ میں پھر یہاں ایک خاتون کے پاس آئی ان کے پاس میں نے پہلے بھی کام کیا اس کا نام نسرین اقبال ہے وہ بھی ایک ویلفیئر ادارہ چلا رہی ہیں۔ اس نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ میں یہاں پہلے بھی رہ کر گئی ہوں پانچ سال پہلے میں آپ کے ادارہ میں دو سے تین دن رہی تھی، پھر میرا خاوند آیا میں نے اس وقت اس کے ساتھ صلح کر لی تھی۔ اب مجھے دوبارہ پھر اس نے مارا ہے تشدد کیا ہے۔ گھر سے نکال دیا ہے۔ میں نے پھر میڈم نسرین سے رابطہ کیا میڈم نسرین نے پھر آپ کے پاس بھجوا دیا ہے میں آپ کے پاس آئی ہوں، میں اس دفعہ کوئی صلح نہیں کرونگی۔ میں اپنی زندگی خود گزاروں گی۔ مجھے اس انسان نے مار کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ میں اس سے طلاق لینا چاہتی ہوں، میرا کیس دائر کیا جائے کوئی بھی ماں طلاق نہیں لینا چاہتی، میں نے بڑی کوشش کی مگر طلاق کا اس لیے کہہ رہی ہوں کہ میری شادی کو 9 سے 10 سال ہو چکے ہیں میں نے اچھے طریقے سے اپنے خاوند کو دیکھ لیا ہے وہ شخص کسی بھی لحاظ سے میرے سے میرے قابل نہیں ہے۔ نہ کام کرتا ہے، کبھی کسی کیساتھ دیہاڑی لگا لیتا ہے اور وہ بھی خرچہ نہیں دیتا میں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں، لوگ ہی میری مدد کرتے رہے میں نے اپنا وقت گزارا اگر میں نے کام کر کے ہی گزارا کرتا ہے تو پھر میں کہیں بھی کام کر کے اپنی زندگی گزار سکتی ہوں۔ پھر مجھے اس کو کھلانے کی کیا ضرورت ہے۔ گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ اخراجات کی وجہ سے اکثر لڑائی رہتی ہے۔ بجلی کا بل بھی بہت زیادہ آنا لگ گیا ہے۔ ایک تو پیسے نہیں ہوتے اوپر سے بچے بھوکے رہتے ہیں میرے زہن میں بہت برے خیال آتے ہیں مگر میں نے یہ مناسب سمجھا کہ میں بچوں کو ان کے حوالے کر کے وہاں سے نکل جاؤں۔ میں نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ میں اس سے طلاق لیکر کہیں کام کروں۔ مجھے کوئی نہ کوئی کام سکھایا جائے اور مجھے ہو سکے تو کہیں نہ کہیں کام پر بھی لگایا جائے۔ میری آواز کو اعلیٰ حکام تک پہنچائیں۔ میرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں، میرے تمام خراجات ادارہ سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن اداکرے۔ میں بڑی امید لیکر آئی ہوں۔