Star Welfare Organization is actively pursuing the mission of Women’s Welfare under
Clause No. (2) of its Constitution.
A woman named Uzma Qadir, wife of Ahmed Ali, of the Khokhar community, resident of Sargodha, came to the office of Star Welfare Organization and shared her situation. She stated that her husband avoids work and does not engage in any regular employment or business. Beating, physical abuse, arguments, and domestic violence have become his routine.
She has two children with him. She stated that she no longer wishes to live with her husband and requested shelter and protection at Star Welfare Organization.
The woman, along with her children, was admitted to the institution and provided shelter and necessary support.
There are currently several women at Star Welfare Organization who are dependent on the organization for their care and support. Your generous donations are urgently needed to help provide them with shelter, food, clothing, healthcare, and other essential needs.
Donation Accounts
Account Title: Star Welfare Organization
Bank: First Women Bank
IBAN: PK52FWOM0018023566510000
Account Title: Star Welfare Organization
Bank: HBL Microfinance Bank
IBAN: PK65FMFB0021011195601018
Account Title: Star Welfare Organization
Bank: MCB Bank, Fatima Jinnah Road Branch, Sargodha
IBAN: PK56MUCB0124201010018281
Star Welfare Organization
Contact: 0300-9607123
Website: www.starwelfare.org
Email: info@starwelfare.org
======================================================
ایک خاتون جس کا نام عظمی قادر زوجہ احمد علی قوم کھوکھرسکنہ سرگودہا کی رہائشی ہوں، میرے تین بچے ہیں، میرا شوہر بے روز گار ہے وہ جان بوجھ کر کچھ کرنا بھی نہیں چاہتا نہ ہی ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے جھگڑا کرنا خرچہ نہ دینا لڑکیوں کیساتھ تعلقات قائم رکھنا، فون پر ساری ساری رات ان سے باتیں کرنا، میسج کرنا اس کا معمول ہے۔ میری بڑی بیٹی جو کہ میری ساس اور سسر نے بچپن سے لے لی تھی اور انہوں نے ہی اس کو پالا۔ میرے دو بچے میرے پاس ہیں۔ ساس اور سر مجھے خرچہ دیتے ہیں، جتنا ان کے پاس ہو میرا بھائی بھی غریب ہے میرے بچوں کے ساتھ وہ بھی مجھے نہیں رکھتا اگر میں ناراض ہو کر اپنے گھر جا تی ہوں تو اس کی بیوی اور وہ کہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو وہاں چھوڑ کر آؤ میں مجبور ہوں، میں اپنے بچوں کو بھی چھوڑ نہیں سکتی اور نہ ہی میرے سمجھانے سے یہ انسان سمجھتا ہے میں نے جاب کا بھی کہا کہ میں کسی سکول میں جاب کرلوں یا پارلر کا کام سیکھ لوں اس پر بھی وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری غیرت گوارا نہیں کرتی۔ مجھے کام کرنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن کا میرے بہنوئی میڈیا میں ہیں انہوں نے آپ کے ادارے کے بارے میں مجھے بتایا میں نے اپنی دوست سے آپ کا ذکر کیا اس نے بھی آپ کے ادارے میں مجھے بتایا اس نے کہا ہاں وہ خواتین کا ادارہ ہے اگرآپ وہاں جا کر رہنا چاہتی ہیں تو وہ آپ کو رکھ لیں گے میں نے اپنے خاونداور سسرال اور بہنوئی کو بھی بتایا کہ میں یہاں آتی ہوں، میں وہاں نہیں رہناچاہتی میں اب تنگ آگئی ہوں، میری جب سے شادی ہوئی ہے میرا اس وقت سے سکون برباد ہو چکا ہے۔ میں یہاں آئی ہوں مجھے شیلٹر فراہم کیا جائے میرے پاس کوئی پیسے بھی نہیں ہیں، مجھے پارلر سلائی یا خواتین کی چیزیں فروخت کرنے کا آئیڈیا اور برنس سکھایا جائے تاکہ میں وہ کام کر سکوں۔ میں ہنر سیکھنا چاہتی ہوں میرے ایف اے تعلیم ہے اگر میرا خاوند کوئی کام نہیں کرتا تو میں اپنے بچوں کا پیٹ خود پال لوں گی مجھے کوئی چھوٹا موٹا آپ کوئی بزنس بھی کروا کر دیں، اور کوئی مکمل کورس کروا دیں تاکہ میں باعزت طریقے سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکوں، میں اس وقت بہت مشکل میں ہوں آپ نے مجھے شیلٹر دیا میں یہاں رہی، میں آپ سے اپنے معاملات ڈسکس کیے اور مجھے بہت اچھا لگا کہ خواتین کیلئے ایسے ادارے موجود ہیں اگر یہ ادارے نہ ہوتے تو ہم خواتین کا کیا بنتا۔